05-01-2026
Muhammad Wakeel
0300-7353953
صاف پانی کا ادھورا منصوبہ
اسلام نگر صاف پانی کا ادھورا منصوبہ
کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی
پنجاب کی موجودہ حکومت جہاں "خدمتِ خلق" اور "پنجاب کی ترقی" کے بلند و بانگ دعوے کر رہی ہے، وہیں بہاولنگر کے عین وسط میں واقع محلہ اسلام نگر انتظامیہ کی نااہلی اور مجرمانہ چشم پوشی کی منہ بولتی تصویر بنا ہوا ہے۔ یہ کالم محض ایک تحریر نہیں بلکہ یہ اہل اسلام نگر کے ان ہزاروں مردوں، عورتوں اور بچوں کی پکار ہے جو روزانہ پینے کے صاف پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں۔ کہتے ہیں کہ پیاسے سے اگر پانی کا پیالہ چھین لیا جائے تو وہ اسے اپنی تقدیر سمجھ کر صبر کر لیتا ہے لیکن اگر پیاسے کو دریا کے کنارے کھڑا کر کے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے جائیں تو یہ "تقدیر" نہیں بلکہ "بربریت" ہے۔
بہاولنگر کے محلہ اسلام نگر کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے اس کی جغرافیائی بدقسمتی پر ہنسی آتی ہے اور ماتم کرنے کو بھی جی چاہتا ہے۔ اس محلے کے مشرق اور مغرب سے واٹر سپلائی کی مین لائنیں گزر رہی ہیں اور انتظامیہ کی "کمالِ مہربانی" دیکھیے کہ محلے کی الگ ٹربائن بھی لگ چکی ہے مگر پھر محلہ اسلام نگر صاف پانی سے محروم آخر کیوں؟ یہ ٹربائن اب کسی قدیم یادگار یا مزار کی طرح کھڑی ہے جس کی زیارت تو کی جا سکتی ہے مگر اس سے فیض حاصل کرنا اہلِ محلہ کے مقدر میں شاید نہیں، مزید حیرت تو اس بات پر ہے کہ منصوبے کا سروے مکمل ہے، فیزیبلٹی رپورٹ بن چکی ہے تکنیکی طور پر دیکھا جائے تو منصوبہ 80 فیصد مکمل ہے لیکن صرف گلیوں میں پائپ لائنیں بچھانا باقی ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دسترخوان بچھا ہو، کھانا تیار ہو لیکن اسے برتنوں میں ڈال کر بھوکے انسان تک پہنچانے والا کوئی نہ ہو۔ یاد رہے، کچھ اس سے ملتی جلتی صورتحال محلہ اسلام نگر کے لوگوں کو بھی درپیش ہے نجانے وہ کون سی ایسی نادیدہ قوت ہے جو گلیوں میں پائپ لائنیں بچھا کرصاف پانی کی فراہمی سے روک رہی ہے؟ کیا عوامی فنڈ کو کہیں اور لگانے کی منصوبہ بندی تو نہیں کی جا رہی؟ یہاں یہ بات بتانا بھی بہت ضروری ہے کہ رواں ہفتے ڈپٹی کمشنر بہاولنگر، ذوالفقار احمد بھون نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے بلدیہ کے تمام اختیارات واسا کے حوالے کر دیے ہیں۔ اب گیند واسا کے کورٹ میں ہے۔ اب کوئی ادارہ دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ واسا کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ صرف "نام" کی تبدیلی نہیں بلکہ "نظام" کی تبدیلی ہے۔ کیا واسا کے حکام محلہ اسلام نگر کی گلیوں کے سروے، فیزیبلٹی رپورٹ کا جائزہ لے کر گلیوں میں پائپ لائنز بچھا کر مریم نواز شریف کے "خدمتِ خلق" کے دعوے کو سچا ثابت کریں گے؟ یا پھر یہ نیا ادارہ بھی پرانی فائلوں کو دیمک کے حوالے کر دے گا؟ اہل اسلام نگر صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت اور نعمت سے کئی سالوں سے محروم ہیں اور وہ اپنے روزمرہ استعمال کے لئے دور دراز واٹر فلٹریشن پلانٹس سے پانی بھر کر لانے کے لئے مجبور ہیں۔ اسی سلسلے میں کچھ باشعور نوجوانوں نے اس مسئلے کو سوشل میڈیا پر اٹھایا جو قابل تحسین اقدام ہے لیکن افسوس کہ کچھ لوگ اب بھی خوابِ غفلت میں ہیں۔ شاید وہ اس خام خیالی میں ہیں کہ ان کی خاموشی انہیں کوئی بڑا انعام دلائے گی۔ یاد رکھیے! آج کے ڈیجیٹل دور میں وہی سنا جاتا ہے جو چیختا ہے۔ سوشل میڈیا پر آپ کی صاف پانی کے لئے چیخ و پکار بند کمروں میں بیٹھے افسران کی کرسیاں ہلا سکتی ہے۔ اگر اسلام نگر کے عوام اب بھی اس مسئلے پر سنجیدہ نہ ہوئے تو یہ ٹربائن اور واٹر سپلائی کی مین لائنیں صرف قصہ پارینہ بن کر رہ جائیں گی۔ جیسے پہلے برسوں گزر گئے سیاسی نمائندوں سے ملاقاتیں کرتے، زبانی یقین دہانیاں ہی ملی ہیں مگر نتیجہ صفر۔ ایسے میں سوشل میڈیا ہی واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعے اہل اسلام نگر اپنی اجتماعی آواز بلند کر سکتے ہیں کیونکہ جب تحریری درخواستیں فائلوں میں دب جائیں تو عوامی آواز ہی نظام کو جگاتی ہے۔ یہ سوشل ہی ہے جو کسی مسئلے کو محلے کی گلیوں سے نکال کر شہر، ضلع اور پھر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا دیتا ہے۔ یاد رکھیں: جب تک آپ کی آواز وزیر اعلی ہاؤس تک نہیں پہنچے گی، نچلے درجے کے افسران آپ کی فائل پر مٹی ڈالتے رہیں گے۔ اگر اسلام نگر کے تمام گھرانے فیس بک، ٹویٹر (X) اور واٹس ایپ پر متحد ہو کر ایک ہی ہیش ٹیگ (مثلاً #CleanWaterForIslamnagar) کے ساتھ آواز اٹھائیں تو ڈپٹی کمشنر اور واسا حکام اسے نظر انداز نہیں کر پائیں گے۔ یاد رکھیے! آج کے دور میں خاموشی حکمت نہیں، کمزوری سمجھی جاتی ہے جو آواز سوشل میڈیا پر گونجتی ہے، وہی فائلوں کی دھول جھاڑتی ہے۔ اہل اسلام نگر کو اگر پانی چاہیے تو اب آواز اٹھانی ہو گی۔ اللّه کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین
