Type Here to Get Search Results !

Muhammad Wakeel

پنجاب حکومت دعووں سے عمل تک

 

15-01-2026

Muhammad Wakeel

0300-7353953 

پنجاب حکومت دعووں سے عمل تک

کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                 جب دعوے خدمت کے ہوں اور نتائج زمین پر دکھائی دینے لگیں تو سیاست محض اقتدار کی جنگ نہیں رہتی بلکہ عوامی فلاح کا سفر بن جاتی ہے۔ پنجاب آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں حکومتی فیصلے صرف فائلوں میں نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی میں اپنا عکس دکھا رہے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں وعدے اور عمل کا فرق واضح ہوتا ہے۔ پنجاب ہمیشہ سے پاکستان کی سیاست، معیشت اور سماج کا محور رہا ہے جو کچھ پنجاب میں ہوتا ہے، اس کی بازگشت پورے ملک میں ہی سنائی دیتی ہے۔ ایسے میں پنجاب حکومت کی کارکردگی محض ایک صوبے کی بات نہیں رہتی بلکہ قومی سمت کا تعین بن جاتی ہے۔ موجودہ دورِ حکومت میں جب معاشی دباؤ، سیاسی بے یقینی اور سماجی اضطراب ایک ساتھ موجود ہیں، پنجاب حکومت کی بعض پالیسیاں اور اقدامات ایک امید کی صورت سامنے آئے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی حکومت کو ورثے میں مسائل ملتے ہیں مگر دانش مندی اس بات میں ہے کہ وہ ان مسائل کو مواقع میں کیسے بدلتی ہے۔ موجودہ پنجاب حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی عوامی خدمت کو اپنی ترجیح قرار دیا اور کچھ ایسے فیصلے کیے جن کے اثرات عام آدمی تک پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سب سے پہلے بات کی جائے سماجی تحفظ کی تو ایک عرصے سے ہمارا معاشرہ اس حقیقت سے نظریں چراتا رہا کہ غربت صرف آمدنی کی کمی نہیں بلکہ عزتِ نفس کے زخم کا نام بھی ہے۔ “دھی رانی پروگرام” جیسے اقدامات اس سوچ کی نفی کرتے ہیں کہ ریاست صرف طاقتور کے لیے ہے، غریب خاندانوں کی بچیوں کی شادی میں معاونت محض مالی مدد نہیں بلکہ سماجی تحفظ کا اعلان ہے یہ پیغام کہ ریاست کمزور کے ساتھ کھڑی ہے۔ اسی طرح معذور افراد کے لیے ہمت کارڈ اور معاون آلات کی فراہمی ایک خاموش مگر بامعنی انقلاب ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جسے برسوں سے نظرانداز کیا گیا مگر اب ریاست اسے معاشرے کا فعال رکن بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ اقدامات شاید اخباری سرخیوں میں جگہ نہ پائیں مگر جن گھروں میں یہ سہولتیں پہنچیں وہاں ریاست کی موجودگی حقیقی محسوس ہوئی ہے۔ تعلیم اور نوجوانوں کے لیے حکومت کا وژن بھی قابلِ ذکر ہے۔ لیپ ٹاپ اسکیم، اسکالرشپس، الیکٹرک بائیکس اور اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک نئی نسل کو خودکفالت کی طرف لے جانے کی کوشش ہیں۔ “سالِ نوجوان” کا اعلان دراصل اس اعتراف کا اظہار ہے کہ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اور اگر انہیں مواقع نہ دیے گئے تو یہ قوت مایوسی میں بدل سکتی ہے۔صحت کے شعبے میں بھی کچھ ٹھوس پیش رفت نظر آتی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، دواؤں کی گھر تک ترسیل اور ایمرجنسی سروسز میں بہتری ایسے اقدامات ہیں جو عام شہری کی زندگی میں براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔ ایک مزدور کے لیے یہ فرق بہت معنی رکھتا ہے کہ اسے علاج کے لیے گھنٹوں لائن میں کھڑا ہونا پڑے یا دوا اس کے دروازے پر پہنچ جائے۔ زراعت جو پنجاب کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس میں کسان کارڈ، سبسڈی اور جدید آلات کی فراہمی کسان کو محض گزارہ نہیں بلکہ منافع بخش کاشت کی طرف لے جانے کی کوشش ہے۔ توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے تناظر میں شمسی توانائی کے منصوبے کسان کی لاگت کم کرنے اور پیداوار بڑھانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انفراسٹرکچر اور شہری ترقی کے میدان میں بھی کچھ اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ سڑکوں کی بحالی، نکاسی آب کے منصوبے، واٹر سپلائی اسکیمیں اور شہری ٹرانسپورٹ کے لنکس ایسے شعبے ہیں جن کا اثر روزمرہ زندگی پر پڑتا ہے۔ جب سڑک بہتر ہوتی ہے تو صرف گاڑی نہیں چلتی، معیشت بھی چلتی ہے۔قانون و امان کے محاذ پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، پولیس کی استعداد میں اضافہ اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ حکومت امن و امان کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی ترجیح سمجھتی ہے۔ کسی بھی معاشرے میں سرمایہ کاری اور ترقی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب شہری خود کو محفوظ سمجھیں۔ یاد رہے، غریبوں کے لئے “اپنی چھت، اپنا گھر” جیسے پروگرام محض اینٹ اور سیمنٹ کا معاملہ نہیں بلکہ عزت و وقار کی بحالی ہے۔ جس خاندان کے پاس اپنی چھت ہوتی ہے، وہ معاشرے میں سر اٹھا کر جیتا ہے۔ثقافتی ورثے اور سیاحت کی بحالی کے اقدامات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ لاہور جیسے تاریخی شہر کی شناخت کو محفوظ رکھنا محض ماضی سے محبت نہیں بلکہ مستقبل کی معیشت سے جڑنا ہے۔ سیاحت روزگار بھی لاتی ہے اور دنیا کو ہماری اصل تصویر بھی دکھاتی ہے۔ یہ سب کچھ اس بات کی ضمانت نہیں کہ ہر مسئلہ حل ہو چکا ہے۔ پنجاب آج بھی مہنگائی، بےروزگاری اور وسائل کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہے مگر حکمرانی کا معیار اس بات سے ناپا جاتا ہے کہ سمت درست ہے یا نہیں اور کم از کم یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ پنجاب حکومت نے کچھ شعبوں میں درست سمت کا تعین کیا ہے۔ حکومتوں کے عروج و زوال تاریخ کا حصہ ہیں مگر وہ حکومتیں یاد رکھی جاتی ہیں جو مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑی ہوں۔ پنجاب کی      موجودہ حکمرانی اگر اسی رفتار، شفافیت اور خدمت کے جذبے کو برقرار رکھے تو یہ دور محض سیاسی نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کا زمانہ  بھی بن سکتا ہے۔ اللہ کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.